27

ناہید خان کی بات ”بلاول ٹیک آف تو زرداری لینڈ کر جاتے ہیں“!

ملک میں سیاست جو کروٹ لے رہی ہے اس پر جتنی بھی بات کی جائے کم ہے۔ پلی بارگیننگ اور قبل از وقت عام انتخابات کی خواہش پر بات کرنا ہے کہ درمیان میں ایک دلچسپ فقرہ سامنے آ گیا ہے۔ اس بات سے اتفاق یا عدم اتفاق کے باوجود اچھا لگا۔ بیگم ناہید خان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیربھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری رہیں، وہ طویل رفاقت کے بعد محترمہ کی شہادت کے بعد اپنے شوہر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کے ساتھ پیپلزپارٹی سے الگ ہوگئیں، ان کے آصف علی زرداری سے اختلافات ہوئے، جواب تک چلے آ رہے ہیں۔دونوں میاں بیوی نے پیپلزپارٹی (ورکرز) کے نام سے اپنی جماعت بنا رکھی ہے۔ وقتاً فوقتاً وہ جملے کستے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیربھٹو کے نظریات سے ہٹ گئی ہے۔ گاہے بگاہے بلاول کو درس دیتی رہتی ہیں، اس بار محترمہ کی برسی پر دونوں باپ بیٹوں کو اکٹھے دیکھ کر انہوں نے کہا: ”بلاول جب بھی ٹیک آف کرنے لگتے ہیں، زرداری لینڈ کر جاتے ہیں“۔ زبردست فقرہ اور طنز ہے، تاہم بلاول خود والد کے ساتھ ہیں اور اِس صورت پر مطمئن ہو کر چل رہے ہیں، تاہم اس بات میں وزن ہے کہ آصف علی زرداری نے ملک میں لینڈ کرتے ہی کہا تھا کہ ”وہ 27دسمبر کو برسی والے جلسہ عام میں خوشخبری سنائیں گے“ اور انہوں نے یہ یوں سنائی کہ بلاول بھٹو کو لاڑکانہ شہر بھیج دیا اور خود اپنی آبائی نشست (نواب شاہ)چلے گئے نواب شاہ والی نشست سے ان کی ہمشیرہ عذرا پیچوہو اور لاڑکانہ شہر کی نشست سے ایاز سومرو نے استعفے پیش کر دیئے۔ یوں ضمنی انتخابات کا راستہ صاف ہو گیا۔
تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ محترم سابق صدر مملکت کی بہن فریال تالپور والی نشست جوں کی توں ہے، حالانکہ عام کا تاثر یہ تھا کہ بلاول یہاں سے انتخاب لڑے گا اور ان کی پھوپھو فریال یہ نشست خالی کر دیں گی کہ یہ بنیادی طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہے اور ایک طرح سے خاندانی نشست ہے۔یہاں سے فتح بہت آسان تھی لاڑکانہ شہر کی نشست بھی پیپلزپارٹی کی ہے لیکن یہاں بلاول کو مقابلہ کرنا پڑے گا کہ لاڑکانہ کے باسیوں نے شہری ترقی کے لئے متحدہ محاذ بنا رکھا ہے، وہ مزاحم ہوں گے اور عباسی خاندان کی مخالفت بھی آڑے آئے گی۔ یوں یہ ذرا مختلف اور مشکل الیکشن ہوگا اگرچہ پیپلزپارٹی کی نشست اور بلاول امیدوار ایسی صورت میں جیت تو ہو ہی جائے گی۔ پھوپھو فریال کو بھائی نہیں کہہ سکے کہ عزت کی خاطر احترام لازم ہے۔اب جب دونوں باپ بیٹے قومی اسمبلی میں پہنچیں گے تو عجیب سماں ہوگا۔ ایک تجربہ کار والد اور نوجوان صاحبزادہ بیک وقت اسمبلی کی رکنیت حاصل کریں گے تو تجربے اور نو آموزیت میں فرق ہوگا اور کیا قائد حزب اختلاف کے لئے تجربہ ضروری نہیں؟ یوں قرعہ فال آصف علی زرداری کے حق میں نکلے گا، سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ بلاول ہی قائد حزب اختلاف ہوں گے لیکن وہ بھول گئے کہ باپ کے ہوتے بیٹا بنے گا تو کیا تاثر پیدا ہوگا، ویسے صاحبزادہ پھر خود ہی اپنے قربانی کی پیش کش کر دے گا۔
دوسری طرف آصف علی زرداری مخالف سیاسی جماعتوں کو متحد کرکے متحدہ حزب اختلاف بنانا چاہتے ہیں تو وزیراعظم محمد نوازشریف ملکی ترقی کے لئے اپوزیشن سمیت سب سے تعاون چاہتے ہیں، انہوں نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھ کر یہ خواہش ظاہر کر دی۔ یار لوگ کہتے ہیں کہ مولانا کو سیاسی مفاہمت کا ہدف دیا گیا ہے، وہ چودھری شجاعت سے مل چکے اور اب آصف علی زرداری سے بھی ملیں گے۔ اس حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن مولانا تحریک انصاف کے عمران خان سے ملاقات کرنے سے رہے۔ پھر کیسے وسیع تر مفاہمت ہوگی؟یوں یہ مقابلہ وسیع تر حزب اختلاف اور وسیع تر مفاہمت کے درمیان شروع ہوگیا ہے۔ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو انتخابات قبل از وقت نظر آ گئے ہیں، شاید انہوں نے آصف علی زرداری کا یہ فقرہ سن لیا کہ لوگ خود انتخابات قریب لے آتے ہیں۔ یوں درست تحریر ہوا کہ کسی تحریک نہیں انتخابی مہم کا آغاز ہوا ہے۔ بلاول بھٹو نے بھی تو کارکنوں کو لانگ مارچ کی تیاری کے لئے ہی کہا ہے، کسی تحریک کا اعلان نہیں کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ جیالے تو مار کھانے کے لئے تیار بیٹھے تھے لیکن باپ اور صاحبزادے نے مل کر ایسا نہیں ہونے دیا، بلکہ انتخابی عمل جیسا فیصلہ کیا۔ یہ بری بات نہیں، تاہم پیپلزپارٹی کوقومی امور پر وسیع تر مفاہمت ضرور کر لینی چاہیے، تاہم پارٹی تشخص اور پارٹی کے اصولوں کو ضرور بحال رکھنا ہوگا کہ ملک میں ایک صحیح لبرل پارٹی کی بھی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : کالمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں