35

چشمہ میں تیسرے ایٹمی بجلی گھر سے پیداوار کا آغاز

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے چشمہ کے مقام پر تیسرے ایٹمی بجلی گھر کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس منصوبے سے 340 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔کچھ عرصہ قبل یہ آزمائشی طور پر چلا دیا گیا تھا جو کامیابی سے چل رہا ہے، چشمہ ایٹمی بجلی گھر نمبر 4پربھی تعمیر کا کام جاری ہے اور اس کی تکمیل اگلے برس(2017ء) ہوگی۔ اسی طرح 2200میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد کے حامل دو ایٹمی بجلی گھر کینپ 2اور 3کراچی میں تعمیر کے مراحل طے کر رہے ہیں۔1100میگاواٹ صلاحیت والے ایک اور ایٹمی بجلی گھر (کینپ 4) کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے، چار دوسرے ایٹمی بجلی گھروں کی منصوبہ بندی بھی ہورہی ہے اس طرح مجموعی طور پر ایٹمی بجلی گھروں سے 8800میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔اس وقت بھی دنیا میں توانائی کا سستا ترین ذریعہ پانی ہی ہے۔دوسرا نمبر ایٹمی ذریعے سے پیدا ہونے والی بجلی کا ہے۔ڈیم بنانے پر ابتدامیں وقت اورسرمایہ زیادہ خرچ ہوتا ہے تاہم ایسے ڈیم بہت جلد اپنی لاگت پوری کردیتے ہیں، پھر ان سے زراعت کے لئے پانی بھی وافر مقدار میں حاصل ہوتا ہے، اس لئے ہماری اولین ترجیح تو ملٹی پرپز ڈیم ہی ہونے چاہئیں، جن میں بیک وقت پانی ذخیرہ کیاجاسکے اور سستی بجلی بھی طویل عرصے کے لئے حاصل ہوتی رہے، ماہرین کا خیا ل ہے کہ پاکستان میں ہائیڈل پاور ایک لاکھ میگاواٹ تک حاصل کرنے کی صلاحیت موجودہے لیکن اسے بد قسمتی ہی کہنا چاہئے کہ ہم پانی سے چھ ہزار کے لگ بھگ بجلی ہی حاصل کرتے ہیں کالا باغ ڈیم کو بوجوہ متنازعہ بنادیا گیا تھاورنہ اگر معمول کے مطابق یہ ذخیرہ آب بنالیا جاتا تو اب تک یہاں سے حاصل ہونے والا پانی بہت سے بے آب وگیاہ علاقوں کو گل و گلزار بنا چکا ہوتا اور اتنی بجلی حاصل ہوتی کہ ہم لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سرے سے شکار ہی نہ ہوتے اور اس بجلی سے جو صنعتیں چلتیں اور جو شہر اور دیہات روشن ہوتے ان سے پاکستان کی جی ڈی پی میں معتدبہ اضافہ ہوتا۔جن عناصر نے اس ڈیم کو متنازعہ بنانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا انہوں نے قومی اور ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد اور سستی شہرت کو پیش نظر رکھا، بعض سادہ لوح لوگوں کو یہ تاثر دیا گیا یا انہوں نے اپنی سادگی سے یہ سمجھ لیا کہ جس پانی سے بجلی ”نکال“ لی جاتی ہے، وہ ”پھوکا“ ہو جاتا ہے اور فصلوں کی روئیدگی کے کام نہیں آتا، اب جہاں عالم یہ ہو وہاں تصور کیا جاسکتا ہے کہ سادہ لوح دیہاتی عوام کو شاطر لوگ کس کس طرح گمراہ نہیں کرسکتے ہوں چنانچہ ایسے ہی گمراہ کن بیانیوں کے ذریعہ یہ لوگ یہ تاثر پختہ کرنے میں کامیاب رہے کہ کالا باغ ڈیم چھوٹے صوبوں کے مفاد کے خلاف ہے تاہم ایسے فنی ماہرین بھی موجود ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کا 12فیصد پانی صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے جب کالا باغ ڈیم بنایا جائے دوسری کوئی صورت نہیں،کالا باغ ڈیم کے متبادل کے طور پر دیا مربھاشا ڈیم کی منصوبہ بندی کی گئی غالباً تین مرتبہ اس کا ”افتتاح“ بھی مختلف اوقات میں کیا گیا لیکن کام تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہا، اور معلوم نہیں اس پر مزید کتنا وقت لگ جائے۔ ان حالات میں اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ حکومت ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر توجہ مبذول کئے ہوئے ہے، جن سے (ہائیڈل کے بعد) سستی بجلی حاصل ہوتی ہے، چشمہ کے مقام پر تیسرا ایٹمی بجلی گھر اس ضمن میں اچھی پیش رفت ہے، اس سلسلے کا چوتھا بجلی گھر چشمہ ہی کے مقام پر اگلے برس مکمل ہو جائے گا، اسی طرح جو دوسرے ایٹمی منصوبے چل رہے ہیں ان سے بھی چند برسوں کے اندر اندر کا فی مقدار میں سستی بجلی حاصل ہونا شروع ہو جائے گی حکومت کوان منصوبوں کے لئے فنڈز بروقت مہیا کرنے چاہئیں تاکہ یہ وقت مقررہ پر مکمل ہوسکیں اگر ان منصوبوں کو فنڈز کی فراہمی میں تاخیر ہوگی تو منصوبے بروقت تکمیل پذیر نہیں ہو سکیں گے، اس شعبے میں پاکستان کو چین کی حکومت کا جو تعاون حاصل ہے وہ قابلِ قدر ہے، اور اسی کے تعاون سے ”چشنب3“ مکمل ہو کر پیداوار دے رہا ہے۔
توانائی کے جو دوسرے منصوبے (تھرمل وغیرہ) شروع ہیں یہ درست ہے کہ ان سے بجلی تو حاصل ہوگی اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد بھی ملے گی لیکن تھرمل ذریعے سے حاصل ہونے والی بجلی بہت مہنگی ہے اور آلودگی پھیلانے کا ذریعہ بھی بنتی ہے پنجاب کے بعض علاقوں میں زرعی زمینوں پر جو تھرمل پاور پلانٹ لگائے جارہے ہیں ان پر یہی اعتراض ہو رہا ہے کہ ان سے پیدا ہونے والی آلودگی فصلوں اور زرعی پیداوار کو متاثر کرے گی، حکومت نے ان اعتراضات کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور کام جاری ہے تاہم یہ اعتراض ایسا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اگر سستے ذرائع دستیاب ہیں تو مہنگے طریقے سے بجلی حاصل کرنے کی تو ضرورت نہیں، اسی طرح چولستان میں بھی شمسی توانائی سے چلنے والا جو پلانٹ لگایا گیا ہے اس پر بہت زیادہ اخراجات کے بعد بہت کم بجلی حاصل ہو رہی ہے، پاکستان جیسا غریب ملک اس طرح کے تجربے کا متحمل نہیں ہوسکتا، ضرورت اس بات کی تھی کہ منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے ہر پہلو سے اس پر غور کر لیا جاتا۔ اسی طرح نندی پور پاور پراجیکٹ بھی سفید ہاتھی ثابت ہو رہا ہے، ہم اس سلسلے میں کسی کو موردِ الزام ٹھہرائے بغیر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کی ناکامی کے اسباب سے تو اہل وطن کو آگاہ کرنا چاہیے۔ اب اس سے جو بجلی حاصل ہوگی وہ اتنی مہنگی ہوگی کہ غریب عوام اسے افورڈ نہیں کرسکیں گے۔
ایک تجربہ پیپلز پارٹی کے دور میں کرائے کے بجلی گھروں کا بھی کیا گیا اور اس سلسلے میں ایک جہاز جس پر پاور پلانٹ نصب تھا کراچی کے قریب سمندر میں لاکر کھڑا کردیا گیا، اس پلانٹ سے ایک میگاواٹ بجلی بھی حاصل نہ ہوئی لیکن سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ضرور پہنچ گیا،یہاں سے اگر بجلی حاصل بھی ہوتی تو 41روپے فی یونٹ ملتی، اب اتنی مہنگی بجلی صارفین کو کس نرخ پر فروخت کی جاتی؟ صارفین تو 15روپے یونٹ والی بجلی کے لئے بڑی مشکل سے ادائیگی پر تیار ہوتے ہیں۔اس کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی اور اس کے پس پردہ مقاصد کیا تھے یہ سب کچھ اب عوام کے سامنے آجانا چاہیے، جن حکمرانوں نے اس کی منصوبہ بندی کی انہوں نے اپنے کمیشن تو قبل از وقت کھرے کرلئے قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچ گیا لیکن یہاں سے بجلی حاصل نہ ہوسکی ان بجلی گھروں کے منصوبہ ساز آج کل اپنی پارسائی کے بڑے دعوے کررہے ہیں۔ کیا حکومت اس کو طشتِ از بام کرے گی؟ اور پارساؤں کی پارسائی کو بے نقاب کرے گی؟ اور اگر حکومت کا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں ہے تو بھی اس کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کرنا چاہیے، اس موقع پر چشمہ تھری سے پیداوار کا آغاز قوم کو مبارک، تاہم امیدہے کہ حکومت اپنے وسائل کا رخ سستی توانائی کے منصوبوں کی طرف موڑے گی اور مہنگے منصوبوں سے دستبردار ہو جائے گی۔موجودہ حکومت نے اپنی پوری توجہ پاور سیکٹر پر مرکوز کر رکھی ہے۔اس سے ملکی ترقی پر مثبت اثرات پڑیں گے۔اگر میاں نواز شریف صاحب توانائی کے مسلہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔2018 ء کے عام انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کامیابی یقینی ہے۔

کیٹاگری میں : کالمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں