37

افغانستان میں امن و مفاہمت

پاکستان‘ روس اور چین کے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کے مذاکرات میں افغانستان میں انتہاء پسند گروپوں بالخصوص داعش سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں امن و مفاہمت کے عمل میں تعاون کے حوالے سے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مذاکرات میں مشاورت کے عمل کو وسعت دینے اور اس میں افغانستان کو شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلہ میں جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ مذاکرات میں جو ماسکو میں منعقد ہوئے‘ افغانستان میں سکیورٹی کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ افغانستان کی سربراہی اور سرپرستی میں چلنے والے امن و مفاہمت کے عمل میں تعاون کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ افغان حکومت کے مسلح مخالفین کو پرامن زندگی کی طرف واپس لایا جاسکے۔ روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی پابندی والی فہرست میں شامل افراد کو نکلوانے کیلئے لچکدارانہ سوچ کی تائید کی تاکہ یہ افراد افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ چین نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملہ پر ماسکو میں پاکستان‘ چین‘ روس کے مابین ہونیوالے سہ فریقی مذاکرات سے خطے میں امن کے فروغ اور تعمیر و ترقی میں مدد ملے گی۔بی این پی کے تجزیہ کے مطابق افغانستان میں امن کی بلاشبہ سب سے زیادہ ہمیں ضرورت ہے کیونکہ افغانستان کی بدامنی سے ہی دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں و سہولت کاروں کو افغان سرزمین ہمارے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کا موقع ملتا رہا ہے جبکہ آج بھی بھارتی ”را“ کے تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے اور گوادر پورٹ کو سبوتاڑ کرنے کے ایجنڈے کے تحت افغان سرحد سے پاکستان داخل ہوتے ہیں اور یہاں اپنے متعینہ اہداف کو نشانہ بنا کر پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی سازشوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ اس بنیاد پر ہی پاکستان نے افغانستان میں پائیدار قیام امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں اپنا کردار ادا کیا اور افغانستان میں قیام عمل کی تمام ممکنہ قابل عمل تجاویز پیش کیں‘ اس کانفرنس میں پاکستان‘ روس اور چین کے علاوہ بھارت‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ افغانستان‘ ترکی‘ ایران اور یورپی یونین سمیت پچاس کے قریب ممالک اور عالمی تنظیمیں بطور رکن اور بطور مبصر شامل ہیں جس کے اب تک چھ سیشن ہوچکے ہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ ہی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے چھٹے سیشن کا انعقاد نئی دہلی میں ہوا ہے جس میں بھارت نے میزبانی کے تقاضوں اور سفارتی ادب آداب کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی تاہم مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے پاکستان کے جاندار کردار اور اسکے ٹھوس موقف کو اجاگر کرکے بھارتی سازشیں خاک میں ملائیں۔
اب افغانستان میں قیام عمل کیلئے پاکستان‘ روس اور چین کے مابین مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے پر اس لئے اتفاق ہوا ہے کہ اس وقت پاکستان‘ چین اقتصادی راہداری کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کرنا ضروری ہے تاکہ پرامن اور سازگار ماحول میں خطے کی ترقی و خوشحالی کا حامل یہ منصوبہ خوش اسلوبی سے مکمل ہو۔ اب روس بھی اس منصوبے میں شمولیت کا عندیہ دے چکا ہے جبکہ چین خطے کے تمام ممالک کی سی پیک میں شمولیت کا خواہش مند ہے جس کیلئے ایران کی جانب سے مثبت جواب آبھی چکا ہے۔اس تناظر میں افغانستان میں قیام امن کیلئے بنیادی کردار امریکہ اور بھارت نے ادا کرنا ہے جن کے ایک دوسرے کے فطری اتحادی ہونے کے ناطے اپنے مفادات اور اپنا ایجنڈا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں امن کی خرابی میں ان دونوں ممالک نے اپنے اپنے مفادات کے تحت کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر افغانستان میں نیٹو ممالک کی چار لاکھ کے قریب افواج بھجوا کر جنگ کا آغاز کیا اور وہاں طالبان حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اپنے کٹھ پتلی کرزئی کی حکومت قائم کی جبکہ پاکستان کے جرنیلی صدر مشرف کو بھی اس جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنایا گیا جس کے باعث افغان جنگ کے سارے منفی اثرات پاکستان کو بھگتنا پڑے اور یہاں ردعمل میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ اس جنگ کے دوران پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں میں افغانستان بھی حصہ ڈالتا رہا۔ کرزئی نے نیٹو افواج کو پاکستان پر حملہ کرنے کی بھی ترغیب دی اور وہ امریکی لب و لہجے میں پاکستان کو ڈکٹیشن دینے کا شوق بھی پورا کرتے رہے جبکہ امریکہ نے پاکستان کی بے بہا جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار پر کبھی اطمینان اور اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں جن انتہا پسندوں کو کچلنے کیلئے امریکہ نے نیٹو افواج کے ذریعے افغانستان کا ”تورابورا“ بنایا‘ وہ اپنے مفادات کے تحت انہی انتہاء پسندوں کے ساتھ امن مذاکرات کا ڈول بھی ڈالتا رہا ہے جن میں طالبان لیڈران کے ساتھ قطر مذاکرات قابل ذکر ہیں۔ اسکے برعکس پاکستان سے امریکہ‘ بھارت اور افغانستان کا تقاضا بالخصوص طالبان کے حقانی گروپ کے قلع قمع کا رہا ہے اور اس حوالے سے وہ پاکستان کو طالبان کے بعض گروپوں کے ساتھ نرم گوشے پر مطعون بھی کرتا رہا ہے مگر وہ خود طالبان کے ان گروپوں کے ساتھ مذاکرات میں کبھی کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا۔ پاکستان تو بلاشبہ ہر مسلح گروپ کی بلاامتیاز سرکوبی کیلئے اپریشن راہ راست اور اپریشن راہ نجات کے بعد اب اپریشن ضرب عضب کی تکمیل کی جانب گامزن ہے کیونکہ دہشت گردی کا خاتمہ‘ پاکستان کی اپنی بقاء کیلئے ضروری ہے جس میں کسی کے ساتھ رورعایت ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ اس کیلئے پاکستان کو بالخصوص افغانستان کے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ اپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں دہشت گردوں نے افغانستان فرار ہو کر وہاں محفوظ ٹھکانے بنالئے ہیں اور وہیں سے وہ پاکستان میں اپنے دہشت گردی کے منصوبوں کو اپریٹ کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کابل حکومت کو افغانستان میں قائم دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں سے آگاہ بھی کیا جا چکا ہے جس کیلئے افغان صدر اشرف غنی کو جی ایچ کیو راولپنڈی کے دورے کے دوران ٹھوس بریفنگ دی گئی تھی مگر اشرف غنی نے ان دہشت گردوں کی سرکوبی کے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے بجائے اپنے پیش رو کرزئی کی طرح پاکستان کو ہی موردالزام ٹھہرانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور آج بھی وہ پاکستان کیخلاف بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔
اس تناظر میں افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے بالخصوص کابل انتظامیہ کا پرخلوص ہونا ضروری ہے جس کیلئے وہ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی مضبوط حکمت عملی طے کرلے تو دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے باہر سے کسی کی مدد و معاونت لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس کیلئے کابل انتظامیہ کو یہ حقیقت بہرصورت پیش نظر رکھنا ہوگی کہ امریکہ اور بھارت اپنے اپنے مفادات کے تحت افغانستان میں قیام امن کے کبھی خواہش مند نہیں ہونگے کیونکہ اس سے خطے میں انکے توسیع پسندانہ مقاصد پورے نہیں ہو پائیں گے۔ امریکہ کو اسی تناظر میں چین کے تعاون سے تشکیل پانے والے سی پیک کی چبھن محسوس ہوتی ہے اس لئے وہ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک چین تک پھیلنے پر اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کیلئے راہ ہموار ہوتی محسوس کرتا ہے جبکہ بھارت کا ایجنڈا چین کے تعاون سے تعمیر ہونیوالی گوادر پورٹ کو سبوتاڑ کرنے کا ہے جس کیلئے اس نے افغانستان کی سرزمین سے ہی بلوچستان میں ”را“ کا نیٹ ورک پھیلایا ہے جس کی نشاندہی ”را“ کے گرفتار ہونیوالے جاسوس کلبھوشن یادیو کے اقبالی بیان سے ہوچکی ہے۔ چنانچہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں بھارت‘ افغانستان اور امریکہ کی مخلصانہ شمولیت کے بغیر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ اس میں کلیدی کردار بہرصورت افغانستان نے خود ادا کرنا ہے جس کیلئے اس کا امریکہ اور بھارت کی اسیری سے باہر نکلنا ضروری ہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سے اس پورے خطہ کے اقتصادی استحکام اور ترقی و خوشحالی کے جو امکانات نظر آرہے ہیں‘ وہ افغانستان کے امن کے ساتھ ہی مشروط ہیں جبکہ افغانستان کا امن پورے خطہ کے امن کی ضمانت ہے۔

کیٹاگری میں : کالمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں