29

زرداری، بلاول کا قومی اسمبلی میں جانے کا فیصلہ

زرداری، بلاول کا قومی اسمبلی میں جانے کا فیصلہ جمہوریت کے اچھا ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گڑھی خدابخش میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کی 9 ویں برسی پر، خطاب میں بیٹے بلاول زرداری بھٹو سمیت ضمنی الیکشن لڑ کر موجودہ پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کردیا؛ تاہم ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود پی پی قیادت نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان نہیں کیا۔ آصف زرداری نے اپنے خطاب میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں اس لیے نہیں آ رہے کہ آپ سے کرسی کھینچ لینی ہے، بلکہ میرا مقصدیہ ہے کہ پارلیمان میں بیٹھ کر آپ کو بھی سبق سکھائیں اور سمجھائیں۔ زرداری صاحب تقریباً ڈیڑھ سال خودساختہ جلا وطنی کے بعد چند روز پہلے ہی، دبئی سے پاکستان پہنچے، اس کے بعد انہوں نے اپنی مختلف تقریروں میں جو لہجہ اور رویہ اختیار کیا وہ مذکورہ اعلان سے خاصا مختلف ہے؛تاہم ان کے عزائم اور اعلان سے پاکستان کی سیاست، ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جس میں سیاست کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے لیے حیرانی کے ساتھ ساتھ دلچسپی کا سامان بھی پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو سبق سکھانے اور ”حکم عدولی“ کامزہ چکھانے کے لیے، قومی اسمبلی میں جانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ غالباً اس لیے بھی کہ پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں، اس پر وہ پورا نہیں اتری، پیپلزپارٹی نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اس کے ”چہیتوں“ کے خلاف مقدمات بنیں گے۔ زرداری صاحب نے اپنی تقریر میں نواز شریف کو جس امانت کے سونپے جانے کا ذکر کیا ہے، اس سے بھی یہی مراد ہے کہ”آپ“ پارٹی کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ اسی لیے پیپلزپارٹی کا حکومت کے خلاف سیخ پا ہونا سمجھ میں ا?تا ہے؛ البتہ انہوں نے حکومت کو سبق سکھانے اور ”سمجھانے“ کے لیے عمران خان کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر خورشید شاہ نے قائد حزب اختلاف کا کردار صحیح طور پر ادا کیا ہوتا تو پیپلزپارٹی کو ایان علی اورڈاکٹر عاصم ایسے معاملات میں خفت اور بے بسی سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ اب یہ تو اسمبلی میں پہنچ کر پتہ چلے گا کہ زرداری صاحب اور ان کی پارٹی کے چیئرمین اور نوجوان صاحبزادے نواز شریف کو سبق سکھانے اور سمجھانے کے لیے کس قسم کا رول ادا کریں گے۔ ان کے فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سترہ میں انتخابات ہوتے نہیں دیکھ رہے، ورنہ چند ماہ کے لیے اسمبلی میں جانے کی کوئی لم سمجھ میں نہیں آرہی۔ ایک طرف اسمبلی میں جانے کا قصد ہے، تو دوسری طرف گرینڈ الائنس کے لیے بھی، چودھری شجاعت حسین کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، جو اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن سے بھی مل چکے ہیں۔ زرداری کے تازہ اعلان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی میں، مفاہمتی سیاست کا علم بردار گروپ ہی غالب آ گیا ہے، جو انہوں نے، جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، سڑکوں پر نکلنے کی بجائے اسمبلی میں جانے کو ترجیح دی ہے۔ ویسے تو یہ اچھی بات ہے کیونکہ لوگوں کو جمع کرکے دارالحکومت پر چڑھائی کر دینا اور حکومت کو میعاد سے پہلے گھر بھیجنے پر اصرار کی سیاست کے نتائج قوم نے دیکھ لیے ہیں۔ جمہوریت میں حکومتوں کو جمہوری طریقے سے ہی آنا اور جانا چاہیے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت، وزیراعظم نواز شریف کی بجائے، وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو اپنی مشکلات کا زیادہ ذمہ دار سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید کا زیادہ ہدف چودھری نثار ہی بن رہے ہیں۔شاید نواز شریف، پیپلزپارٹی پر کوئی احسان کر دیتے، اگر کراچی میں رینجرز ا?پریشن متوقع کامیابیاں نہ دے رہا ہوتا،یا ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کے خلاف مقدمے، حقیقی ہونے کے بجائے بنائے گئے ہوتے۔حکومت، خود بھی، اپوزیشن کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔ متنازع معاملات کو آگے بڑھ کرطے کرنے کی کوشش نہ کرنا، حکومت کی اپنی کوتاہی ہے۔ لوگوں کے مسائل بجلی اور سڑکیں ہی نہیں، بلکہ انہیں پیٹ بھر کر کھانا ملنا چاہیے، صحت اور تعلیمی سہولتوں کو اولین ترجیح قرار دینا چاہیے تھا۔ ایک اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عام آدمی کو پیٹ بھر کر کھانا ملنا تو درکنا، جو غذا اور خوراک مل رہی ہے، وہ ناقص اورمضر صحت ہے۔ پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ غریب آدمی علاج معالجے کی ہمت کربھی لے، تو دوائیں مہنگی اور ناخالص ہیں۔ حکومت کو انتخابات کی تیاری کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مسائل بھی حل کرنے چاہئیں۔ فوری طور پر مردم شماری کرا کر نئی حلقہ بندیاں اور ووٹروں کی لسٹیں تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انتخابات میں صرف 16 ماہ رہ گئے ہیں لیکن تیاری کوئی نہیں، ابھی تک انتخابی اصلاحات ہی نہیں مکمل ہوسکیں۔

کیٹاگری میں : کالمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں