IMO messanger 27

”ایمو“ میسنجر پر بھی پابندی کی اطلاعات، لوگ شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے.

ریاض : بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے پیاروں سے رابطے کیلئے سستے اور آسان ذرائع کا استعمال کرتے ہیں جن میں سرفہرست سوشل میڈیا ایپلی کیشنز جیسے واٹس ایپ، سکائپ، فیس بک مسینجر وغیرہ ہے تاہم سعودی عرب میں ان ایپلی کیشنز کے ذریعے آڈیو یا ویڈیو کال کرنا بھی ممنوع ہے جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب ایک اور ایپلی کیشن پر بھی پابندی عائد کئے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

سعودی عرب میں مقیم افراد بھی بڑی تعداد میں ان ایپلی کیشنز کا استعمال کرتے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ان پر پابندی کے باعث عوام کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مملکت میں رہنے والے افراد واٹس ایپ کے ذریعے پیغام تو بھیج سکتے ہیں تاہم اس کے ذریعے وائس یا ویڈیو کال نہیں کر سکتے اوریہی عالم سکائپ، فیس بک مسینجر، لائن اور دیگر ایپلی کیشنز کا بھی ہے۔ ان تمام ایپلی کیشنز پر پابندی عائد ہونے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد رابطوں کیلئے ”ایمو“ ایپلی کیشن استعمال کر رہی تھی لیکن اب اس پر بھی پابندی عائد کئے جانے کی اطلاعات ہیں اور ملک کے بیشتر علاقوں میں اس کے ذریعے رابطہ ممکن نہیں رہا ہے۔ جس کے باعث لوگ شدید مایوس اور پریشان ہیں اور اپنے پیاروں سے رابطوں کیلئے فون کا سہارا لینے پر مجبور ہیں جو انتہائی مہنگا ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز تک ”ایمو“ ایپلی کیشن بالکل ٹھیک کام کر رہی تھی اور اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں تھی تاہم آج اس ایپلی کیشن پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور لوگ اس کے ذریعے ویڈیو اور آڈیو کال کرنے سے قاصر ہیں اور دیگر ذرائع کی تلاش میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی بیشتر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے ذریعے سعودی عرب میں صرف پیغامات بھیجنے کا کام لیا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعے آڈیو یا ویڈیو کالز کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے تاہم بہت سے لوگ پراکسی سافٹ وئیرز کا استعمال کر کے کالز کرتے ہیں لیکن ان افراد کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے اور زیادہ تر لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

کیٹاگری میں : سائنس و ٹیکنالوجی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں