24

ٹرمپ نوازشریف رابط

وزیراعظم محمد نوازشریف نے گزشتہ روز منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے انہیں صدر امریکہ کے منصب پر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نوازشریف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپکی شہرت بہت اچھی ہے‘ آپ شاندار انسان ہیں اور آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں جو ہر جگہ نمایاں ہے۔ میں آپ سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ نومنتخب امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب جبکہ میں وزیراعظم پاکستان سے بات کررہا ہوں‘ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میں بہت عرصے سے آپ کو جانتا ہوں۔ آپ کا ملک پاکستان بہت شاندار ملک ہے‘ جہاں بہت مواقع ہیں‘ پاکستانی بہت ذہین لوگ ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف سے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے میں کوئی کردار ادا کروں تو میں اس کیلئے تیار ہوں‘ یہ میرے لئے اعزاز ہوگا اور میں یہ کردار ذاتی طور پر ادا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 20 جنوری کو صدر امریکہ کا منصب سنبھالیں گے‘ تاہم آپ جب چاہیں مجھ سے فون پر بات کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دورہ¿ پاکستان کی دعوت دی جس پر نومنتخب امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس زبردست ملک کا دورہ کرنا اور غیرمعمولی لوگوں سے ملنا پسند کرینگے۔ انہوں نے باور کرایا کہ میں جلد آپ سے ملاقات کا خواہاں ہوں۔ پاکستان شاندار شہریوں کا ملک ہے‘ میں یہاں آنا پسند کروں گا۔ آپ میری طرف سے پاکستانیوں کو بتا دیجئے کہ وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو یقین دلایا کہ آپ تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے جیسا کردار چاہیں‘ میں ادا کرنے کو تیار ہوں۔ امریکی ری پبلکن امیدوارکی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جس جارحانہ انداز میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو فوکس کرکے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر پاکستان کے ازلی دشمن نریندر مودی کے ساتھ اپنائیت بھرے لہجے میں بہتر تعلقات کار کا عندیہ دیا‘ اسکی بنیاد پر ٹرمپ کے ساتھ پاکستانی عوام کو سخت تحفظات پیدا ہوگئے تھے اور انکی غیرقانونی تارکین وطن کو امریکہ سے نکالنے کی پالیسی سے بالخصوص امریکہ میں مقیم پاکستانیوں میں خوف و دہشت اور غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اس تناظر میں امریکی شہریت حاصل کرنیوالے پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے نہ صرف ٹرمپ کی مدمقابل ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیئے بلکہ انکی انتخابی مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جب انکی توقعات کے قطعی برعکس ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل ہوگئی تو سب سے زیادہ پاکستانی نڑاد امریکیوں کو اس پر دکھ ہوا جس کا اظہار مختلف حوالوں سے اب بھی سامنے آرہا ہے۔ حالانکہ اب ٹرمپ کی کامیابی کیخلاف انکی اعلان کردہ پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ کے اندر اور یورپی ممالک میں جو احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی وہ بھی اب دم توڑ چکی ہے اور امریکی ڈیموکریٹک پارٹی بھی انکے ہاتھوں ہلیری کی شکست کو تسلیم کرکے خاموش ہو کر بیٹھ گئی ہے اور ٹرمپ کا اگلی چار سالہ ٹرم کیلئے دنیا کی سپرپاور امریکہ کے صدر کا منصب نبھانا انکے مقدر اور امریکی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اس لئے اب امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو بھی اپنا اعتبار اور ساکھ قائم رکھنے کیلئے ٹرمپ کی پالیسیوں کیمطابق امریکی شہری بن کر رہنا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہماری قومی پالیسیوں کو بھی ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہونا ہے۔ حکومت پاکستان نے تو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران بھی انکی پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی محتاط طرز عمل اختیار کیا تھا اور انکی انتخابی تقاریر اور بیانات پر کسی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا جبکہ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے ہی انہیں مبارکباد کے پیغامات پہنچائے اور انکے ساتھ مل کر چلنے کا عندیہ دیا۔ گزشتہ روز نومنتخب امریکی صدر نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران جس والہانہ انداز میں پاکستان‘ پاکستانی عوام اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اپنائیت کا مظاہرہ کیا اور جتنی فراخدلی اور ٹھوس مو¿قف کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل حل کرانے کیلئے اپنا بھرپور کردار پاکستان کی خواہش کے مطابق ادا کرنے کا عندیہ دیا اس سے بادی النظر میں ٹرمپ سے زیادہ پاکستان کا دوست اور ہمدرد اور کوئی نظر نہیں آیا اور آج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ٹیلی فونک گفتگو سنی ہوگی تو انکے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہونگے اور ان کا اضطراب انکے چہرے پر اڑتی ہوائیوں سے عیاں ہورہا ہوگا۔ کیونکہ وہ اپنی جن زہریلی سازشوں سے پاکستان کو عالمی تنہائی کی جانب دھکیلنے کیلئے کوشاں تھے‘ وہ ٹرمپ نے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ محض ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے غارت کردی ہیں جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ اہل پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کو بھی ”اچھے چال چلن“ کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہے جبکہ ان کا یہ کہنا کہ وہ تمام تصفیہ طلب امور پاکستان کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں‘ مودی کے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسا رہا ہوگا کیونکہ یہ دیرینہ تصفیہ طلب امور تو بھارت کے ساتھ ہی طے ہونے ہیں جس نے اب تک مسئلہ کشمیر مذاکرات کی میز پر حل نہیں ہونے دیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رکھا ہے جبکہ وہ یواین قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے کو بھی تیار نہیں اور اسکے برعکس اس نے کشمیری عوام کی استصواب کیلئے اٹھائی جانیوالی آواز دبانے کیلئے جبر کا ہر ہتھکنڈہ اختیار کرکے ان پر مظالم کی انتہاء کررکھی ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ اپنی پیشکش کے مطابق جب دیرینہ تصفیہ طلب تنازعات کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے تو اس پر سب سے زیادہ تکلیف بھارت اور اسکی مودی سرکار کو ہی ہوگی جبکہ ہمیں تو دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل سے سروکار ہے جسکے باعث ہم ہمہ وقت بھارتی جارحیت کی زد میں رہتے ہیں اور علاقائی اور عالمی امن کو بھی ہمہ وقت خطرات لاحق رہتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ نومنتخب امریکی صدر کی خوش بیانی اور مثبت سوچ کو ٹرمپ ڈپلومیسی کا کمال قرار دیا جا سکتا ہے اوراگر اس سے پاک بھارت سرحدی کشیدگی کم کرنے میں مدد ملتی ہے‘ دیرینہ مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے اور بھارتی جنگی جنون کے آگے بند باندھ کر اسکے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات ٹال دیئے جاتے ہیں تو پھراقوام عالم میں ٹرمپ ڈپلومیسی کے ہی ڈنکے بجیں گے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں بے شک پاکستان کے عوام اور پاکستانی نڑاد امریکی باشندوں نے ڈیموکریٹ ہلیری کلنٹن کے ساتھ نیک توقعات کا اظہار کیا مگر وہ امریکی صدر کے منصب پر منتخب ہونے کے بعد کیا پاکستان کیلئے ایسے مثبت خیالات اور جذبات کا اظہار کرتیں جو وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ٹرمپ کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ وہ یقیناً اپنے ادا شدہ الفاظ کی پاسداری بھی کرینگے جبکہ ہلیری کلنٹن تو منتخب ہونے کے بعد ممکن ہے ہمارے لئے پہلا حکمنامہ دہشت گردی کی جنگ میں ”ڈومور“ کا تقاضا کرتے ہوئے جاری کرتیں جو امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے امریکی ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی پالیسیوں کا موازنہ کیا جائے تو ری پبلکنز نے اپنے ادوار حکومت میں ہمیں کبھی اتنا زچ نہیں کیا جتنا ہم ڈیموکریٹک حکمرانوں سے زچ ہوتے رہے ہیں جبکہ خارجہ پالیسی کے کئی معاملات میں ری پبلکنز کی پالیسیاں ہمارے حق میں بہتر رہی ہیں۔ اگرچہ امریکی نائن الیون کے بعد اس خطہ میں دہشت گردی کی جنگ کا آغاز ری پبلکنز امریکی صدر جارج بش جونیئر کے دور میں ہوا تھا مگر اس جنگ میں پاکستان سے ڈومور کے تقاضے اور ڈرون حملوں کا سلسلہ ڈیموکریٹک اوبامہ کے دور سے شروع ہوا حالانکہ وہ بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کار کا عندیہ دیتے رہے اور صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کو اپنا خصوصی نمائندہ بھی مقرر کردیا تھا مگر اسکے بعد انہوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک روا کئے رکھا‘ ہماری خودمختاری کیخلاف ایبٹ آباد اپریشن کیا‘ سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو گن شپ ہیلی کاپٹروں کا حملہ کرایااور دہشتگردی کی جنگ میں امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود انہوں نے جس طرح پاکستان کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا وہ اب امریکی خارجہ پالیسی کے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔ خود ہلیری کلنٹن نے اوبامہ کے دور میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کی حیثیت سے پاکستان پر افغانستان تک کو ترجیح دی اور کابل میں بیٹھ کر پاکستان کے ساتھ افغانستان کا ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ کرایا جس پر بے انتہاء خوشی کا اظہار انکے چہرے سے ٹپکتا نظر آتا تھا اور وہ ڈیموکریٹس کی ہمارے ساتھ امتیازی پالیسیوں کا ہی حصہ تھا۔ اب ٹرمپ نے لگے ہاتھوں میاں نوازشریف کو بھی اچھی حکمرانی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے جو اس وقت پانامہ کیس اور بعض دیگر حکومتی معاملات میں سخت آزمائش سے گزر رہے ہیں تو ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو سے انہیں اپنی حکمرانی کیلئے مزید سہارا مل گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان پر عالمی تنہائی کے جو خطرات منڈلا رہے تھے وہ بھی ٹل گئے ہیں۔ اگر ٹرمپ ڈپلومیسی ٹرمپ کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد بھی برقرار رہتی ہے تو اس سے ہمارے لئے امریکہ کے ساتھ پیدا ہونیوالی سردمہری کی فضا بھی چھٹ جائیگی اور پاکستان اقوام عالم میں ویسے ہی شاندار ملک کی حیثیت سے ابھرے گا جیسا اسکے بارے میں ٹرمپ نے محسوس کیا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ ڈپلومیسی کا کمال ہمارے لئے بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات طے ہونے کے معاملہ میں ٹرمپ کارڈ بھی ثابت ہو سکتاہے۔ اہل پاکستان اس ٹرمپ ڈپلومیسی کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں۔

کیٹاگری میں : کالمز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں